03 Dec, 2021 | 27 Rabi Al-Akhar, 1443 AH

Other

October 09, 2021

اسلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ میرا سوال یہ ہے کہ میں میڈیکل شعبے سے تعلق رکھتی ہو اور میں گورنمنٹ جاب کرتی ہوں میری جاب نومسلم یعنی کہ غیر مسلم میں ہے وہاں مجھے نا محرم مرد کو دیکھنا پڑتا ہے ان کو چیک کرنا ہے ان کو ہاتھ لگانا پڑتا ہے کیا یہ ٹھیک بات ہے اور میں اپنی جاب سے خوش نہیں ہوں کیونکہ وہاں پر بہت بے پردگی ہوتی ہے۔ یہ جاب میں اپنی مرضی سے نہیں کر رہی مجھے گھر والے فورس کرتے ہیں کرنے کے لئے لیے تو کیا اگر میں یہ گروپ چھوڑ دوں تو کیا اپنے والدین کی نافرمانی کروں گی گی ہو اور میں دین کا کام کرنا چاہتی ۔ جاب کی وجہ سے میری دینداری بہت زیادہ متاثر ہو رہی ہے میری نمازیں میرے باقی سارے معاملات بہت پیچھے رہ گئے ہیں ۔ کیا اس طرح میرا غیر محرم کو دیکھنا جائز ہے کیا اگر میں جاب چھوڑ دوں تو والدین کی نافرمانی ہوگی حلانکہ اس جاب کے علاوہ میں استانی کی جاب پردے کے ساتھ کر سکتی ہوں میری رائنمای فرمائیں جزاک اللہ خیرا کثیرا?

تفصیل/مزیدمعلومات

June 11, 2021

ہمارےہاں مساجد میں ختم قران کےموقع پر طعام یا شیرینی مٹھائی وغیرہ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس میں بعض چھوٹی تراویح کی جگہیں ہوتی ہیں جہاں کوئی ایک فرد یا کچھ مخصوص افراد اس کا اہتمام کرتے ہیں جس کے جواز کا فتوی آپ کےہاں سے دیا جاتا ہے۔۔۔ لیکن اسی کے تسلسل میں بڑی مساجد بالخصوص غریب آبادیوں کی مساجد میں بھی اس کا اہتمام کیا جاتا ہے جہاں کوئی ایک فرد یا کچھ مخصوص افراد یہ استطاعت نہیں رکھتے تو اس کے لیے عوام سے چندہ کیا جاتا ہے اور مسجد میں اعلانات بھی کیے جاتے ہیں، جس کی مندرجہ بالا صورتیں دیکھی گئی ہیں: 1. لوگوں پہ کوئی مخصوص رقم نہیں باندھی جاتی ہر کوئی اپنی استطاعت کے مطابق دے سکتا ہے لیکن اس کا باقاعدہ اعلان مسجد سے کیا جاتا ہے اور چندہ کی جھولی چلائی جاتی ہے۔ 2. چندہ کے ساتھ ساتھ باقاعدہ فی گھر کے ساتھ ایک رقم مخصوص کر دی جاتی ہے جو ان کو دینا لازم ہے ، اگر بلفرض اس میں لازمی دینے کا عنصر منہا بھی کر دیا جائے تو بھی یہ بات ایک عمومی سمجھ میں آنے والی ہے کہ اگر کوئی شخص نہیں دے گا تو یقینا اس کی اہمیت امام مسجد یا منتظمین کے نزدیک گر جائے گی تو در حقیقت تو وہ بھی اس کا پابند ہی ہوتا ہے ۔ اور ان سب کے دفاع میں جواز کا فتوی اور لوگوں کی بھرپور شرکت اور اس کے نتیجے میں بیان کا زیادہ لوگوں تک پہنچنا ، یہ دو حکمتیں بتائی جاتی ہیں۔ اب ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم ارشاد فرما دیں کہ: 1. مندرجہ بالا دو صورتوں میں کیے گئے اہتمام کی حیثیت کیا ہے ؟ 2. ان صورتوں دی گئی رقم کا کیا حکم ہے ؟نیز ان صورتوں میں دی جانے والی رقم پر ثواب ملے گا کہ نہیں؟?

تفصیل/مزیدمعلومات

June 04, 2021

ہمارےہاںمساجد میں ختم قران کےموقع پر طعام یا شیرینی مٹھائی وغیرہ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس میں بعض چھوٹی جگہیں ہوتی ہیں جہاں کوئی ایک فرد یا کچھ مخصوص افراد اس کا اہتمام کرتے ہیں جس کے جواز کا فتوی آپ کےہاں سے دیا جاتا ہے۔۔۔ لیکن اسی کے تسلسل میں بڑی مساجد بالخصوص غریب آبادیوں کی مساجد میں بھی اس کا اہتمام کیا جاتا ہے جہاں کوئی ایک فرد یا کچھ مخصوص افراد یہ استطاعت نہیں رکھتے تو اس کے لیے عوام سے چندہ کیا جاتا ہے اور مسجد میں اعلانات بھی کیے جاتے ہیں، جس کی مندرجہ بالا صورتیں دیکھی گئی ہیں: 1. لوگوں پہ کوئی مخصوص رقم نہیں باندھی جاتی ہر کوئی اپنی استطاعت کے مطابق دے سکتا ہے لیکن اس کا باقاعدہ اعلان مسجد سے کیا جاتا ہے اور چندہ کی جھولی چلائی جاتی ہے۔ 2. چندہ کے ساتھ ساتھ باقاعدہ فی گھر کے ساتھ ایک رقم مخصوص کر دی جاتی ہے جو ان کو دینا لازم ہے ، اگر بلفرض اس میں لازمی دینے کا عنصر منہا بھی کر دیا جائے تو بھی یہ بات ایک عمومی سمجھ میں آنے والی ہے کہ اگر کوئی شخص نہیں دے گا تو یقینا اس کی اہمیت امام مسجد یا منتظمین کے نزدیک گر جائے گی تو در حقیقت تو وہ بھی اس کا پابند ہی ہوتا ہے ۔ اور ان سب کے دفاع میں جواز کا فتوی اور لوگوں کی بھرپور شرکت اور اس کے نتیجے میں بیان کا زیادہ لوگوں تک پہنچنا ، یہ دو حکمتیں بتائی جاتی ہیں۔ اب ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم ارشاد فرما دیں کہ: 1. مندرجہ بالا دو صورتوں میں کیے گئے اہتمام کی حیثیت کیا ہے ؟ 2. ان صورتوں دی گئی رقم کا کیا حکم ہے ؟نیز ان صورتوں میں دی جانے والی رقم پر ثواب ملے گا کہ نہیں؟?

تفصیل/مزیدمعلومات