26 Sep, 2022 | 29 Safar, 1444 AH

Divorce

August 23, 2022

میری شادی پانچ سال پہلے 2017 میں مدینہ منورہ میں ہوئی تھی اور میرے شوہر لندن میں رہتے ہیں اور میں سعودیہ میں اپنے والدین کے ساتھ رہتی ہوں۔ میرے شوہر ویزا سٹیٹس کی وجہ سے مجھے ابھی نہیں بلا سکتے۔ ان سالوں میں بیچ میں ہماری ملاقاتیں ہوئی ہیں ترکی ملیشیہ اور سعودیہ میں، لیکن اب ملاقات کو تین سال ہونے والے ہیں، کرونا کی وجہ سے نہیں مل سکے، اور ابھی بھی عمرہ ویزا میں مسئلہ ہو گیا۔ اب میرے دل میں سوال آتا ہے کہ کیا میرا نکاح باقی ہے؟ میرا سوال مندرجہ نقات پر مبنی ہے: 1۔ ملاقات کو بہت عرصہ ہو گیا اور ایسا لگتا ہے کہ اللہ کی کسی مصلحت کی بنیاد پر آڑیں آرہی ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ شیطانی وسوسہ ہے یا کیا ہے، اگر شیطانی وسوسہ ہے تو اس کا کوئی علاج بتا دیں، میں اندر سے بہت گھبرائی ہوئی ہوں، خاص طور سے جب میرے شوہر کے عمرہ ویزا میں آڑ آئی سب کی دعاؤں اور وظیفوں اور نوافل کے باوجود۔ 2۔ دوسرا نقطہ یہ ہے، جوکہ غالبا مسئلہ کی بات نہیں ہے، ایک دفعہ انہوں نے کہا تھا کہ اگر مپانچ سال پہلے ہماری شادی نہ ہوئی ہوتی تو اس وقت تم آرام سے فیملی لائف گزار رہی ہوتی ور کچھ بچے بھی ہوتے۔ اس وقت نہ کوئی علہدگی کی بات چل رہی تھی نہ ایسی کوئی نیت تھی۔ 3۔ تیسرا اہم نقطہ یہ ہے کہ میرا سعودیہ میں اقامہ باقی رکھنے کی کے لیے ضروری ہے کہ مجھے غیر شادی شدہ ثابت کیا جائے۔ اس وجہ سے اوفیشیل ڈوکیومنٹس میں میں غیر شادی شدہ ہوں، اور سب سے بری بات یہ ہے کہ میرے والد کو امبیسی میں حلف اٹھانا پڑتا ہے کہ میں غیر شادی شدہ ہوں۔ میرا نکاح شرعی طریقہ سے ہوا تھا، ایجاب قبول گواہ نکاح نامے پر سائن سب ہوا تھا۔ تو کیا میرا نکاح باقی ہے؟ میرے شوہر کا جو عمرہ ویزہ اور پاسپورٹ میں جو مسئلہ غیر متوقع مسئلہ اور آڑ آئی ہے اس کی کیا وجہ ہے؟ میری گھبراہٹ کا کیا حل ہے؟?

تفصیل/مزیدمعلومات

June 19, 2022

اسلام وعلیکم! ہمارا مسلہ یہ ہے کہ میرے بھائی کی شادی کو ایک سال ہو گیا ہے اس کی بیوی شادی کے بعد تقریباً تین ماہ ساتھ رہی ہے اس کے بعد دونوں میاں بیوی کے آپس میں اختلافات کی وجہ سے وہ اپنے میکے چلی گئی تھی اور واپس آنے سے انکار کر رہی ہے جب وہ اپنے میکے گئی تھی تب وہ حاملہ تھی اور پھر بچہ بھی وہاں میکے میں پیدا ہوا اور پیدائش کے تین دن بعد انتقال کر گیا اس دوران اس کے شوہر نے اسے واپس لانے کی بہت کوشش کی مگر وہ آنے سے انکار کر رہی تھی اور اس کے گھر والے میرے بھائی کو اس سے ملنے بھی نہیں دیتے تھے اور جان سے مار دینے کی دھمکیاں دیتے تھے اب اس بات کا ایک سال ہو گیا ہے تقریباً اور میرے بھائی کی بیوی طلاق چاہتی ہے وہ چاہتی ہے کے اسے الگ کر دیا جائے لیکن اس کے حق مہر میں ہمارا گھر ہے آپ سے سوال یہ ہے کہ حق مہر اسے ادا کرنے کا حق ہے اگر وہ خود الگ ہونا چاہے یعنی وہ خود طلاق کا مطالبہ کرے ؟ آپ ہماری رہنمائی فرما دیں تاکہ ہم گنہگار نہ ہوں?

read more

May 20, 2022

اسلام وعلیکم! ہمارا مسلہ یہ ہے کہ میرے بھائی کی شادی کو ایک سال ہو گیا ہے اس کی بیوی شادی کے بعد تقریباً تین ماہ ساتھ رہی ہے اس کے بعد دونوں میاں بیوی کے آپس میں اختلافات کی وجہ سے وہ اپنے میکے چلی گئی تھی اور واپس آنے سے انکار کر رہی ہے جب وہ اپنے میکے گئی تھی تب وہ حاملہ تھی اور پھر بچہ بھی وہاں میکے میں پیدا ہوا اور پیدائش کے تین دن بعد انتقال کر گیا اس دوران اس کے شوہر نے اسے واپس لانے کی بہت کوشش کی مگر وہ آنے سے انکار کر رہی تھی اور اس کے گھر والے میرے بھائی کو اس سے ملنے بھی نہیں دیتے تھے اور جان سے مار دینے کی دھمکیاں دیتے تھے اب اس بات کا ایک سال ہو گیا ہے تقریباً اور میرے بھائی کی بیوی طلاق چاہتی ہے وہ چاہتی ہے کے اسے الگ کر دیا جائے لیکن اس کے حق مہر میں ہمارا گھر ہے آپ سے سوال یہ ہے کہ حق مہر اسے ادا کرنے کا حق ہے اگر وہ خود الگ ہونا چاہے یعنی وہ خود طلاق کا مطالبہ کرے ؟ اور وہ یہ بھی مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس کا سامان جو جہز کا تھا اگر استعمال ہو گیا ہے وہ بھی نیا چاہئیے جب کہ وہ سب سامان اس نے خود گھر میں استعمال کے لیے نکال دیا تھا شادی کے بعد خود اپنی مرضی سے استمعال کیا تھا آپ ہماری رہنمائی فرما دیں تاکہ ہم گنہگار نہ ہوں?

تفصیل/مزیدمعلومات