19 Apr, 2024 | 10 Shawwal, 1445 AH

Question #: 2971

June 07, 2022

Mere ladke ka naam MEER hai, birthdate 03/09/2018 hai. mere husband ke grandfather ka naam MIRASAHEB tha, wo deendar the isiliye humne ladke ka naam MEER chuna. wo bahot ziddi hai, kya MEER naam rkhana sahi hai? maine suna hai naam ke asrat hote hai? please help Jazakallahukhair

Answer #: 2971

الجواب حامدا ومصلیا

  1. ''میر'' فارسی زبان کا  لفظ ہے، اس کے معنی  "سردار" اور "بادشاہ" ہے، اور''میر'' کا ایک معنی "امیر" بھی آتاہے۔ یہ نام درست ہے ، البتہ اس نام کی بجائے انبیاء کرام علیہم السلام، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ناموں میں سے کسی نام کا انتخاب  کرکے نام بدلنا چاہتے ہیں  تو بدل سکتے ہیں۔

بچوں میں غصہ اور ضد عام طور پر ہوتی ہی ہے۔ آپ تین بار درود شریف اور تین بار ’’وَوَجَدَکَ ضَالاًّ فَہَدَی‘‘ پڑھ کر پانی پر دم کرکے اسے پلادیا کریں۔ ان شاء اللہ غصہ اور ضد کم ہوجائے گی۔

  1. یہ بھی واضح رہے کہ بچے کے نام رکھنے سے متعلق دو باتوں کا خیال رکھناچاہیے:

پہلی بات: اچھا نام رکھنے کو آپ ﷺ نے اولاد کے حقوق میں شمار فرمایا ہے۔ ایک حدیث میں ہے :

عِنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی الله عنه :أَنَّهُمْ قَالُوْا یَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! قَدْ عَلِمْنَا مَا حَقُّ الْوَالِدِ عَلَی الْوَلَدِ فَمَا حَقُّ الْوَلَدِ عَلَی الْوَالِدِ؟قَالَ أَنْ یُحْسِنَ اِسْمَه‘ وَیُحْسِنَ أَدَبَه‘۔( شعب الایمان، حدیث نمبر:۸۶۵۸)

ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:صحابۂ کرام  رضی  اللہ عنہم نے کہا :اے اللہ کے رسول !ہم نے یہ جان لیا کہ بچہ پر باپ کا کیا حق ہے ،پس (آپ بتائیں کہ) باپ پربچے کاکیا حق ہے؟ توآپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ(باپ پر بچہ کا یہ حق ہے کہ ) اس کااچھا نام رکھے اوراس کوحسن ا دب سے آراستہ کریں۔

ایک اور حدیث میں ہے کہ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :

اِنَّکُمْ ُتدْعَوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَةِ بِأَسْمَائِکُمْ وَاَسْمَاءِ آبَائِکُمْ فَأَحْسِنُوْا أَسْمَائَکُمْ .

ترجمہ:نبی ﷺ نے فرمایا :کہ تم لوگ قیامت کے دن اپنے باپوں کے نام سے پکارے جاؤگے تو اپنا نام اچھا رکھو۔

(سنن ابی داؤد:2/676)

دوسری بات:

اچھے اوربرے نام کااثر: اچھے ناموں کے اچھے اثرات اور برے ناموں کے برے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔چنانچہ ایک روایت میں یہ واقعہ منقول ہے :

عَنْ عَبْدِالْحَمِیْدِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ شَیْبَةَ قَالَ جَلَسْتُ اِلٰی سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ فَحَدَّثَنِیْ أَنَّ جَدَّه حَزَنًا قَدِمَ عَلٰی النبی صلی اللہ علیہ و سلم قَالَ مَا اسْمُکَ قَالَ اسْمِیْ حَزَنٌ قَالَ بَلْ اَنْتَ سَهْلٌ قَالَ هل اَنَا بِمُغَیِّرٍ اِسْمًا سَمَّانِیْهِ أَبِیْ قَالَ ابْنُ المُسَیِّبِ فَمَا زَالَتْ فِیْنَا الْحَزُوْنَةُ بَعْدُ.

( ابوداؤد :۲ /۶۷۷، مصنف عبد الرزاق :۱۱/۴۱ ،السنن الکبرٰی :۹/۵۱۶)

ترجمہ:حضرت عبد الحمید ابن جبیر ابن شیبہ کہتے کہ (ایک دن ) میں حضرت سعید ابن المسیب کی خدمت میں حاضر تھا کہ انہوں نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی کہ میرے دادا جن کا نام حزن تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم  کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے پو چھا تمہارا نام کیا ہے؟ انہوں نے کہا میرانام حزن ( جس کے معنٰی ہیں سخت اور دشوار گزارزمین) ہے۔ آپﷺ نے فرمایا کہ: (حزن کوئی اچھا نام نہیں ہے ) بلکہ میں تمہارا نام سہل ( اس کے معنی ہیں ملا ئم اور ہموار زمین، جہاں آدمی کو آرام ملے) رکھتا ہوں ۔ میرے دادا نے کہا کہ میرے باپ نے میرا جو نام رکھا  ہے اب میں اس کو بدل نہیں سکتا ۔حضرت سعید ؓ نے فر ما یا کہ: اس کے بعد سے ہمارے خاندان میں ہمیشہ سختی رہی۔

اس سے اتنی بات واضح ہو گئی کہ کبھی ناموں کے اچھے ،برے اثرات بچے  پر مرتب ہوتے ہیں ؛ لہٰذااچھے ناموں کا انتخاب کرنا چاہئےاوربرے ناموں سے احترازکرنا چاہئے۔

والله اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق غَفَرَاللہُ لَہٗ

دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ