28 Feb, 2024 | 18 Shaban, 1445 AH

Question #: 2952

April 30, 2022

اسلام و علیکم! ویجائنہ کے داخلی سوراخ کے اندر جو گلابی مسلز سامنے نظر آرہے ہوتے ہیں رطوبت صاف کرتے ہوۓ ہتھیلی اور پانی لگنے سے کیا روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟

Answer #: 2952

الجواب حامدا ومصلیا

فرج داخل (اندرونی شرم گاہ) میں انگلی داخل کرنے سے روزہ  دو شرط كے ساتھ ٹوٹتا ہے:

1۔ ۔۔روزے سے ہونا یاد ہو۔                     2۔۔۔ انگلی گیلی ہو، خشک نہ ہو۔

ایسی روزہ دار خاتون  جسے اپنا روزے سے ہونا یاد بھی  ہو  اور وہ گیلی انگلی (خواہ پانی سے ہو، یا تیل یا  دوائی، یا شرم گاہ کی اندرونی رطوبت سے انگلی تر ہو)  اپنی  شرم گاہ میں داخل کرے، تو اس سے روزہ فاسد ہوجائے گا، صرف قضا لازم ہوگی،  کفارہ لازم نہ ہوگا، البتہ  اگر روزے کی حالت میں خشک انگلی ڈالے تو اس سے روزہ فاسد نہ ہوگا، تاہم ایک مرتبہ خشک انگلی  داخل کرکے نکالنے کے بعد واپس وہی انگلی شرم گاہ میں ڈالنے سے روزہ فاسد ہوجائے گا۔

واضح  رہے کہ شرم گاہ کے اوپر کا حصہ (جسے فرج خارج کہا جاتا ہے)   استنجا کے وقت دھونے کے دوران گیلی انگلی  لگانے سے روزہ فاسد نہیں ہوتا، مذکورہ حکم فرج داخل (اندرونی شرم گاہ) سے متعلق ہے۔

في الفتاوی الهندية:

"ولو أدخل أصبعه في استه أو المرأة في فرجها لايفسد، وهو المختار، إلا إذا كانت مبتلةً بالماء أو الدهن فحينئذ يفسد؛ لوصول الماء أو الدهن، هكذا في الظهيرية. هذا إذا كان ذاكرا للصوم، وهذا تنبيه حسن يجب أن يحفظ؛ لأن الصوم إنما يفسد في جميع الفصول إذا كان ذاكراً للصوم، وإلا فلا، هكذا في الزاهدي."

( كتاب الصوم، النوع الأول ما يوجب القضاء دون الكفارة، ١ / ٢٠٤)

وفي تبيين الحقائق :

"لو أدخلت الصائمة أصبعها في فرجها أو دبرها لا يفسد على المختار إلا أن تكون مبلولةً بماء أو دهن. (قوله: إلا أن تكون مبلولةً بماء أو دهن) أي فإنه يفسد إن كانت ذاكرةً صومها، قلت: وهذا تنبيه حسن يجب أن يحفظ؛ إذ الصوم إنما يفسد في جميع الفصول إذا كان ذاكراً للصوم وإلا فلا اهـ دراية."

(كتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده، ١ / ٣٣٠ )

والله اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق غَفَرَاللہُ لَہٗ

دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ