03 Dec, 2021 | 27 Rabi Al-Akhar, 1443 AH

Question #: 2858

September 15, 2021

Jab orat haiz ki halat my ho to Quran e pak ki tilawat krna jaiz nai h laykin 1) Aalimah course my kitabo my jo misale likhi hoti wo zyada tar Quran ki hi hoti hn jysay Ilm Nahw ki kitab my hn, to kia test ki waja say un ko yaad karny k liye ya taqraar k waqt un ko rawani k sath bar bar parhna jaiz h? 2) Ici tarh ham apna sabq yaad krnay say phlay Surat Alm Nashrah parhtay hn or bhi jo qurani dua hn ilm my izafay k liye jaysay surah Baqarah ki ayat h jis my farishto nay apni la ilmi ka izhar kia tha or ici yarha Rabi Sharahli Sadri... in sab ayaat ko apna sabq yaad krnay say ohlay halat e haiz my parhna kysa h? 3) Safr k duran آخری 5 suratain 6 dafa Bismillah k sath parhi ja sakti hn? 4Darsi kitab my jo Quran ki ayat likhi hoti h aksar ham ko nahi oata hota kh ye Quran e pak say li gai misaal h to un par hath bhi rakha jata h ic bary my bhi rehnumai kr dain. Jazakallah Khair.

Answer #: 2858

جب عورت حیض کی حالت میں ہو تو قرآن پاک کی تلاوت کرنا جائز نہیں ہے لیکن:

1)  عالمہ کورس میں کتابوں میں جو مثالیں لکھی ہوتی ہیں وہ زیادہ تر قرآن کی ہی ہوتی ہیں جیسے علم نحو کی کتاب میں ہیں۔ تو کیا ٹیسٹ کی وجہ سے ان کو یاد کرنے کے لیے یا تکرار کے وقت ان کو روانی کے ساتھ بار بار پڑھنا جائز ہے؟

2) اسی طرح ہَم اپنا سبق یاد کرنے سے پہلے صورت الم نشرح پڑھتے ہیں اور بھی جو قرآنی دعا ئیں ہیں علم میں اضافے کے لیے جیسے سورۃ بقرہ کی آیت  ہے  جس میں فرشتوں نے  اپنی لا علمی کا اظہار کیا تھا اور اور اسی طرح رب اشرح لي صدري . . . ان سب آیات کو اپنا سبق یاد کرنے سے پہلے حالت حیض میں پڑھنا کیسا ہے؟

3)  سفر کے دوران آخری 5 سورتیں 6 دفعہ بسم اللہ کے ساتھ پڑھی جا سکتی ہیں؟

4)   درسی کتاب میں جو قرآن کی آیات لکھی ہوتی ہیں اکثر ہَم کو نہیں پتا ہوتا کہ یہ قرآن پاک سے لی گئی مثال ہے تو ان پر ہاتھ بھی رکھا جاتا ہے اس بارے مین بھی راہنمائی کر دیں۔ جزاک اللہ خیر

الجواب حامدا ومصلیا

1۔۔۔ حالت حیض میں امتحان کی تیاری کے لیے قرآن کریم   کی آیات کو   نحوی مثال کی غرض سے یاد کرنے کے لیے یا تکرار کے وقت ان کا تلفظ کرنا، روانی کے ساتھ  ایک بار یا بار بار پڑھنا ، یہ سب ناجائز ہے۔ اس کا حل  یہ ہے کہ  ان مثالوں  وغیرہ کو زبان ہلائے (تلفظ کیے) بغیر آیات پر نظر ڈال کر دل ہی دل میں دہرالے، کیوں کہ جب تک زبان سے تلفظ نہ ہو اسے تلاوت نہیں کہا جاتا،  آیات کو دل ہی دل میں دہرانے اور سوچنے کی ممانعت نہیں ہے۔ دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ  آیت کو  ایک  ایک کلمہ کرکے پڑھنا بھی چونکہ جائز ہے،  لہذا ایک ایک کلمہ  کرکے بھی یاد کرسکتے ہیں۔

2،3۔۔۔ چاروں قل ، سفر کی دعا، آیت الکرسی اور اس طرح کی دیگر آیات جو دعا کے معنی پر مشتمل ہوں،  جیسے ’’رب اشرح لی صدری‘‘ رب زدنی علماً‘‘ وغیر ہ    ان کو حالت حیض میں دعا، وظیفہ اور دم  کرنے کے طور پر پڑھنا جائز ہے، تلاوت کی نیت سے پڑھنا جائز نہیں۔ اور جو آیات دعا کے معنی پر مشتمل نہ ہو ں ، حالت حیض  میں ان کو  پڑھنا  بالکل جائز نہیں ہے۔ لہذا صورت مسؤلہ میں سبق یاد کرنے کے لیے  سورہ ’’الم  نشرح ‘‘ پڑھنا جائز نہیں ہے۔

4۔۔۔  درسی کتاب میں جو قرآن کی آیات  بطور مثال لکھی جاتی ہیں، ان کے آخر میں  عام طور پر سورت وغیرہ کا حوالہ دیا  جاتا ہے، اس لیے اس بارے میں بہت احتیاط کرنا ضروری ہے۔ ان کو بلا وضو چھونا  جائز نہیں ہے۔

فی حاشية ابن عابدين (1/ 293)

قوله ( وقراءة قرآن ) أي ولو دون آية من المركبات لا المفردات لأنه جوز للحائض المعلمة تعليمه كلمة كلمة كما قدمناه وكالقرآن التوراة والإنجيل والزبور كما قدمه المصنف .قوله ( بقصده ) فلو قرأت الفاتحة على وجه الدعاء أو شيئا من الآيات التي فيها معنى الدعاء ولم ترد القراءة لا بأس به.

والله اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق غَفَرَاللہُ لَہٗ

دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ