03 Dec, 2021 | 27 Rabi Al-Akhar, 1443 AH

Question #: 2861

September 18, 2021

1) Agr 4 rkat ki Farz ya sunnat namaz my dosri rakt k baad bhool k salam phair dia to kia phir bina kisi say baat kiye baqi do rakt parhy ja skty hn akhir my Sajda sahw say namaz ada ho jaye gee ya jab do rakt k baad salam phaira tha to tab dubara say namaz shru krni paray gee? 2) Sajda sahw ka tariqa kia h? Dono tarf salam phair k do sajday krna ya ek yarf salam phair k do sajday krna or phir بائیں tarf salam phairna? 3) Namaz my surat fatiha k baad surat parhana bhool gay or Allah hu Akbar kh dia or abhi pura jhukay nai thy kh yaad anay par sidha ho kr surat mila li ya jhuknay say phlay hi surat parhana yaad a gaya, to ic izafi Allah hu Akbar khnay par koi harj to nai ya sajda sahw krna pary ga? 4) Sunnat ya Farz namaz my agr akhri rakt my wazu toot jaye to kia namz puri ki ja skti h ya dubara parhni ho gee 5) 4 rakt nafal namaz my darmiyan waly qada my darood or akhar ki duain parhni hoti hn ya farz or sunnat namaz ki tarha tashud k baad khary ho jatay hn? 6) Quran e Pak my ayat sajda pay jo sajda kia jata h kia os k liye bhi wohi khum h jo namazo ka h kh makrooh waqt my ada nai kr sakty? Fajr ki namaz k baad suraj nikalnay tak or asar ki namaz k baad sajda tilawat kia ja sakta h?

Answer #: 2861

1 ) اگر 4 رکعت کی فرض یا سنت نماز میں دوسری ركعت کے بعد بھول کے سلام پھیر دیا تو کیا پِھر بنا کسی سے بات کیے باقی دو  رکعت پڑھی جا سکتی ہیں آخر میں سجدہ سہو سے نماز ادا ہو جائے گی یا جب دو رکعت کے بعد سلام پھیرا تھا تو تب دوبارہ سے نماز شروع کرنی پڑے گی ؟

2 ) سجدہ سہو کا طریقہ کیا ہے؟ دونوں طرف سلام پھیر کے دو سجدے کرنا یا ایک طرف سلام پھیر کے دو سجدے کرنا اور پِھر بائیں طرف سلام پھیرنا ؟

3 ) نماز میں صورت فاتحہ کے بعد سورت پڑھنا بھول گئے اور اللہ اکبر کہ دیا اور ابھی پورا جھکے نہیں تھے کہ یاد آنے پر سیدھا ہو کر سورت ملا لی یا جھکنے سے پہلے ہی صورت پڑھنا یاد آ گیا ، تو اس اضافی اللہ اکبر کہنے پر کوئی حرج تو نہیں یا سجدہ سہو کرنا پڑے گا ؟

4 ) سنت یا فرض نماز میں اگر آخری رکعت میں وضو ٹوٹ جائے تو کیا نماز پوری کی جا سکتی ہے یا دوبارہ پڑھنی ہو گی؟

 5 ) 4 رکعت نفل نماز میں درمیان والے قعدہ میں درود اور آخر کی دعائیں پڑھنی ہوتی ہیں یا فرض اور سنت نماز کی طرح تشہد کے بعد کھڑے ہو جاتے ہیں ؟

6 ) قرآن پاک  میں آیت سجدہ پر جو سجدہ کیا جاتا ہے  کیا اس کے لیے بھی وہی حکم ہے  جو نمازوں کا ہے کہ مکروہ وقت میں  ادا نہیں کر سکتے ؟ فجر کی نماز کے بعد سورج نکلنے تک اور عصر کی نماز کے بعد سجدہ تلاوت کیا جا سکتا ہے؟

الجواب حامدا ومصلیا

1-   چار رکعت والی   نماز ، خواہ فرض ہو یا سنت، اس کی  دوسری ركعت کے بعد بھول کر سلام پھیر دےتو  اگر اس نے دونوں طرف سلام پھیرنے کے بعد کسی  سےبات  بھی نہیں کی ، اوراس جگہ سے  سینہ پھیر کر ہٹا (الگ ) بھی نہیں  ہوا اور اس کے علاوہ اور بھی  نماز کے منافی کوئی  کام نہیں کیا،  تو  وہ باقی دو  رکعت پڑھ  کر چار پوری کرلے اور  آخر میں سجدہ سہو  کرلے، اس سے اس کی نماز ادا ہو جائے گی ۔

2- سجدہ سہو کا طریقہ یہ ہے کہ  آخری رکعت میں ’’التحیات ‘‘  پڑھ کر    صرف دائیں  طرف سلام پھیر کر دوسجدے  کرے، پھر بیٹھ کر التحیات ، درود شریف اور دعا پڑھ کر دونوں طرف سلام پھیر  کر نماز ختم کردے۔

3 - اس’’اضافی اللہ اکبر ‘‘کہنے سے سجدہ سہو واجب نہیں ہوگا۔

4- سنت یا فرض نماز  کے اندر  آخری رکعت میں وضو ٹوٹ جائے تو  نیاوضو  کیے بغیر مکمل کرنا تو جائز نہیں ہے۔البتہ وضو کرکے  آخری  رکعت کو مکمل کرنا اور جہاں سے  نماز چھوڑ کر گیا تھا، وہیں سے شروع کرنا جائز ہے اور اس کی بہت زیادہ شرائط ہیں ، جن کویاد رکھنااور ان پر  پورے طور پر عمل کرنا عام آدمی کے لیے مشکل ہے، اس لیے افضل اور بہتر یہی ہے کہ  جب نماز میں وضو ٹوٹ جائے تو نیا وضو کرکے دوبارہ نماز   شروع سےپڑھے۔

5- چار  رکعت نفل نماز  میں اور سنت غیر موکدہ میں  درمیان والے قعدہ میں درود اور آخر کی دعائیں پڑھنا مستحب  ہے، ان کو پڑھنا چاہیے، تاہم اگر کوئی نہ پڑھے تو اس سے  سجدہ سہو لازم نہیں ہوگا ۔

6- فجر کی نماز کے بعد سورج کے طلوع ہونے سے پہلے، اور عصر کے بعد سورج کے زرد ہونے سے پہلے سجدہ تلاوت ادا کرنا جائز ہے، خواہ اس وقت تلاوت کی ہو یا پہلے تلاوت کی ہو۔اور تین مکروہ اوقات یعنی سورج کے طلوع ، غروب (یعنی سورج کے زردی مائل ہونے کے بعد سے غروب ہونے تک)  اور زوال (نصف النہار) کے وقت  میں اگر آیت سجدہ  کی تلاوت ان اوقات میں کی گئی ہو تو ان اوقات میں سجدہ تلاوت کی ادائیگی جائز ہے، مگر مکروہ تنزیہی ہے،  بہتر یہی ہے کہ مکروہ وقت نکل جانے کے بعد سجدہ تلاوت ادا کیا جائے۔

اور  اگر آیتِ سجدہ کی تلاوت مکروہ اوقات  یعنی طلوع، غروب اور زوال کے علاوہ کسی اور وقت میں کی گئی تو اس کا سجدہ تلاوت  ان مکروہ اوقات میں کرنا چاہتا ہےتویہ  مکروہ تحریمی اور ناجائز ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 370، 374):

"(وكره) تحريماً، وكل ما لايجوز مكروه (صلاة) مطلقاً (ولو) قضاءً أو واجبةً أو نفلاً أو (على جنازة وسجدة تلاوة وسهو) لا شكر قنية (مع شروق) ... (وسجدة تلاوة، وصلاة جنازة تليت) الآية (في كامل وحضرت) الجنازة (قبل) لوجوبه كاملا فلا يتأدى ناقصا، فلو وجبتا فيها لم يكره فعلهما: أي تحريما. وفي التحفة: الأفضل أن لاتؤخر الجنازة.(قوله: فلو وجبتا فيها) أي بأن تليت الآية في تلك الأوقات أو حضرت فيها الجنازة.(قوله: أو تحريماً) أفاد ثبوت الكراهة التنزيهية. (قوله: وفي التحفة إلخ) هو كالاستدراك على مفهوم قوله أي تحريما، فإنه إذا كان الأفضل عدم التأخير في الجنازة فلا كراهة أصلا، وما في التحفة أقره في البحر والنهر والفتح والمعراج حضرت " وقال في شرح المنية: والفرق بينها وبين سجدة التلاوة ظاهر؛ لأن تعجيل فيها مطلوب مطلقا إلا لمانع، وحضورها في وقت مباح مانع من الصلاة عليها في وقت مكروه، بخلاف حضورها في وقت مكروه وبخلاف سجدة التلاوة؛ لأن التعجيل لا يستحب فيها مطلقا اهـ أي بل يستحب في وقت مباح فقط فثبتت كراهة التنزيه في سجدة التلاوة دون صلاة الجنازة".

الفتاوى الهندية (1/ 52):

"ثلاث ساعات لاتجوز فيها المكتوبة ولا صلاة الجنازة ولا سجدة التلاوة إذا طلعت الشمس حتى ترتفع وعند الانتصاف إلى أن تزول وعند احمرارها إلى أن يغيب إلا عصر يومه ذلك فإنه يجوز أداؤه عند الغروب. هكذا في فتاوى قاضي خان قال الشيخ الإمام أبو بكر محمد بن الفضل ما دام الإنسان يقدر على النظر إلى قرص الشمس فهي في الطلوع.كذا في الخلاصة. هذا إذا وجبت صلاة الجنازة وسجدة التلاوة في وقت مباح وأخرتا إلى هذا الوقت فإنه لا يجوز قطعا أما لو وجبتا في هذا الوقت وأديتا فيه جاز؛ لأنها أديت ناقصة كما وجبت. كذا في السراج الوهاج وهكذا في الكافي والتبيين لكن الأفضل في سجدة التلاوة تأخيرها وفي صلاة الجنازة التأخير مكروه. هكذا في التبيين ولايجوز فيها قضاء الفرائض والواجبات الفائتة عن أوقاتها كالوتر. هكذا في المستصفى والكافي".

الفتاوى الهندية (1/ 52):

"تسعة أوقات يكره فيها النوافل وما في معناها لا الفرائض. هكذا في النهاية والكفاية فيجوز فيها قضاء الفائتة وصلاة الجنازة وسجدة التلاوة. كذا في فتاوى قاضي خان.

منها ما بعد طلوع الفجر قبل صلاة الفجر.... ومنها ما بعد صلاة الفجر قبل طلوع الشمس. هكذا في النهاية والكفاية۔۔۔ ومنها ما بعد صلاة العصر قبل التغير. هكذا في النهاية والكفاية".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 375):

"(لا) يكره (قضاء فائتة و) لو وترا أو (سجدة تلاوة وصلاة جنازة وكذا) الحكم من كراهة نفل وواجب لغيره لا فرض وواجب لعينه (بعد طلوع فجر سوى سنته) لشغل الوقت به(قوله: أو سجدة تلاوة) لوجوبها بإيجابه تعالى لا بفعل العبد كما علمته فلم تكن في معنى النفل".

والله اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق غَفَرَاللہُ لَہٗ

دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ