26 Sep, 2022 | 29 Safar, 1444 AH

Question #: 3007

August 09, 2022

میری امی کی شادی کو ٣٠ سال ہو چکے ہیں. اس دوران انھوں نے زکوٰۃ نہیں دی اور نہ ہی کسی نے طریقہ بتایا. ان کے پاس ٢ تولے سونا اور ٢٠ تولے چاندی ہے. اب انھیں گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ موجودہ چاندی کی قیمت کے حساب سے دینی ہوگی یا گزشتہ سالوں میں جو قیمت تھی، اسی کے حساب سے دینی ہوگی؟ براہ مہربانی طریقہ سمجھا دیں.

Answer #: 3007

الجواب حامدا ومصلیا

گذشتہ سالوں کی زکوٰۃ  سونا چاندی   کی موجودہ   قیمت کے حساب سے دینی ہوگی۔   جس کا طریقہ یہ ہے کہ دو تولہ سونا اور بیس تولہ چاندی کی قیمت ملا کر جو مجموعی رقم بنے اس کا چالیسواں حصہ (ڈھائی فیصد )  ایک سال کی زکاۃ میں ادا  کردے، اسی طرح تیس سال کا حساب لگا لیں ، البتہ دوسرے سال  کی زکاۃ کا حساب لگاتے ہوئے کل مالیت میں سے پہلے سال  واجب ہونے والی زکاۃ کی  رقم منہا کر کے چالیسواں حصہ ( ڈھائی فیصد) نکالیں، کیوں کہ یہ  ذمہ میں  واجب الادا  قرضہ ہے، اسی طرح تیسرے سال کی زکاۃ کا حساب لگاتے ہوئے کل مالیت میں سے پہلے اور دوسرے  سال  واجب ہونے والی زکاۃ کے برابر رقم منہا کرنے کے بعد پھر چالیسواں حصہ ( ڈھائی فیصد) نکالیں۔ اسی طرح چوتھے  ، پانچویں  ۔۔۔سال کی زکاۃنکالتے وقت یہی طریقہ اختیار کریں گے۔ 

والله اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق غَفَرَاللہُ لَہٗ

دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ