19 Apr, 2024 | 10 Shawwal, 1445 AH

Question #: 2924

February 27, 2022

کیا اختتام حیض پر مباشرت کے لیے وضو کر لینا کافی ہے یا پہلے غسل کرنا ضروری ہے۔

Answer #: 2924

الجواب حامدا ومصلیا

عورت کے ماہواری سے پاک ہونے میں تفصیل  یہ ہے کہ

1-  اگر حیض اپنی پوری مدت یعنی دس دن  میں ختم ہوا ہے توخون بند ہوتے ہی   غسل سے قبل  عورت  سے مجامعت درست ہے ،اگرچہ بہتر یہ ہے کہ غسل کے بعدہمبستری کرے۔

2-  اگر دس دن سے پہلے ماہواری ختم ہو گئی ، مثلاً: چھ ،سات روز میں اور عورت کی عادت بھی چھ یا سات روز کی تھی تو خون کے رکتے ہی  ہمبستری درست نہیں ہے، بلکہ حیض ختم ہونے کے بعد جب عورت غسل کر لے یا ایک نماز کا وقت گزر جائے (جس میں غسل کرکے کپڑے پہن کر نماز شروع کرسکے)  اس کے بعد مباشرت درست ہو گی۔

3-  اگر عادت کے ایام سے پہلے ہی خون بند ہوگیا ہو اس صورت میں عادت کے ایام مکمل ہونے سے پہلے ہمبستری جائز نہیں۔

في حاشية ابن عابدين : (1/294)

 (ويحل وطؤها إذا انقطع حيضها لاكثره) بلا غسل وجوبابل ندبا.(وإن) انقطع لدون أقله تتوضأ وتصلي في آخر الوقت، وإن (لاقله) فإن لدون عادتها لم يحل، أي الوطء وإن اغتسلت؛ لأن العود في العادة غالب بحر، وتغتسل وتصلي وتصوم احتياطا، وإن لعادتها، فإن كتابية حل في الحال وإلا (لا) يحل (حتى تغتسل) أو تتيمم بشرطه(أو يمضي عليها زمن يسع الغسل) ولبس الثياب.

والله اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق غَفَرَاللہُ لَہٗ

دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ