28 Feb, 2024 | 18 Shaban, 1445 AH

Question #: 2831

July 01, 2021

السلام و عليكم. میرا سوال ہے کیا؛ پاک قطر فیملی تکافل نامی کمپنی میں تکافل پالیسی خریدنا جائز ہے یا نہیں؟ کیونکہ وہ مفتی تقی عثمانی صاحب کی سربراہی کا ذکر کرتے ہیں... دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر تکافل جائز ہے تو تکافل میں جمع کرائی گئی رقم کے زکوٰۃ کے بارے میں رہنمائی فرمائیں... جزاک اللہ

Answer #: 2831

الجواب حامدا ومصلیا

  1. ہماری معلومات کے مطابق پاک قطر فیملی تکافل نامی کمپنی فی الحال مستند علماء کرام کے زیر نگرانی  شرعی اصولوں مثلاً وقف ، وکالت  وغیرہ کے اصولوں کے مطابق کام کررہی ہے لہذا موجودہ صورتحال میں پاک قطر تکافل کمپنی  سے تکافل پالیسی لینا ااور اس میں ملازمت کرنا جائزہے ۔
  2. تکافل سے رقم ملنے کی صورت میں زکوۃ کے حساب کی تاریخ کو جتنی رقم موجود ہو اور جتنی رقم موصول ہوئی ہو اس ساری رقم کو زکوۃ کے حساب میں شمار کیا جائے گا، البتہ اگر زکوۃ کے حساب کی تاریخ آجائے اور رقم ابھی تک نہ ملی ہو، تو ایسی صورت میں وہ رقم جو انویسٹمنٹ فنڈ میں رکھی گئی ہے اور اس پر جو نفع ہوا ہے، (ان دونوں کی تفصیل تکافل کمپنی سے معلوم کی جاسکتی ہے) اس کو زکوۃ کے حساب میں شمار کیا جائے گا، جبکہ وہ رقم جو وقف پول میں گئی ہے، اس کو زکوۃ میں شمار نہیں کیا جائے گا۔

المبسوط للسرخسی: (204/2، ط: دار المعرفة)

أما مال المضاربة فعلی رب المال زکاة رأس المال وحصته من الربح

الدر المختار مع رد المحتار: (کتاب الزکوة، 259/2)

وسببه أی سبب افتراضها ملک نصاب حولی. قوله ملک نصاب ، فلا زکوة فی سوائم الوقف والخیل المسبلۃ لعدم الملک

والله اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق غَفَرَاللہُ لَہٗ

دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ