19 Apr, 2024 | 10 Shawwal, 1445 AH

Question #: 3089

February 08, 2023

السلام علیکم ، میں باہر کے ملک میں مقیم ہوں اور ڈاکٹر ہوں۰ میرے سوال کو پبلک نہ کیا جائے۰ میں ایک لڑکی کو پسند کرتا تھا۰ میں نے اپنے والدین کو راضی کرنے کی بہت کوشش کی ۰لیکن وہ نہ مانے اور باہر گناہ سے بچنے کےلئے میں نے نکاح کر لیا۰ نکاح لڑکی اور لڑکا ایک جگہ موجود تھے اور گواہان اور نکاح خوان پاکستان میں ویڈیوکال پر موجود تھے۰اس وقت تحقیق کی تو یہی معلوم ہوا کہ لڑکا لڑکی راضی ہوں تو نکاح ہو جاتا ہے۰لیکن اب پتہ چلا ہے کہ لڑکا لڑکی اور گواہان کا ایک مجلس میں ہونا ضروری ہے۰اگر لڑکا لڑکی موجود نہیں تو وہ کسی کو اپنا وکیل بنا کر ایک مجلس میں اکٹھا کریں جہاں وکیل اورگواہان دونوں ایک جگہ موجود ہوں نہ کہ کال پر۰ اب مسئلہ درپیش یہ ہے کہ وہ نکاح ہوا یا پھر نہیں ہوا۰؟ دوسرا مسئلہ یہ کہ اگر وہ نکاح نہیں ہوا تو اسکے لئے دوبارہ نکاح کریں ؟تیسرا مسئلہ اور کیا لڑکا اور لڑکی دونوں ایک ہی شخص کو اپنا وکیل بنا سکتے ہیں ؟چوتھا مسئلہ کہ کیا دوبارہ پڑھائے جانے والے نکاح کو نادرا سے رجسٹرڈ کروائیں کیونکہ پہلا نکاح اور نادرا رجسٹریشن سرٹیفیکیٹ درست نہیں؟ میں اور میری بیوی دونوں ہی باہر مقیم تھے۰ ھمیں یہ قدم اس وقت گناہ میں پڑنے سے بہتر لگا۰ لیکن ابھی تک ہم نے گھر نہیں بتایا ۲سال سے اس امید پر کے وہ مان جائیں گے۰ میری بیوی اب عالمہ کورس بھی کر رہی ہے اور میں تفسیر۰ دل میں یہ ڈر ہے کے ہمارا نکاح درست تو ہے کیونکہ میری بیوی کے والد کو خبر نہی ہے۰ خاندانی دشمنی کی وجہ سے میرے والدین رشتے کے لئے راضی کبھی نہیں ہوں گے۰ مجھے ۵ سال ہوگئے ہیں مناتے ہوئے۰ ہمیں مہربانی فرما کر صراط مستقیم دکھلائیں۰ میں آپکا مشکور ہوں گا۰ جزاک اللہ خیر

Answer #: 3089

الجواب حامدا ومصلیا

  1. ٹیلیفون اور موبائل پرنکاح کرنے سے نکاح منعقد نہیں ہوتا،  لہذا صورت مسؤلہ میں دی گئی معلومات اگر حقیقی ہیں کہ واقعتاً  نکاح موبائل  پر ہوا تھا تو یہ نکاح نہیں  ہو ا ، لہذا آپ دونوں ایک دوسرے  کے میاں بیوی نہیں ہیں۔( مأخذہ: فتاوی عثمانی،وفتاوی رحیمیہ)۔ 
  2. والدین سے چھپ کر نکاح کرنا  بہت ہی بری بات ہے، اسلام اس کو پسند  نہیں کرتا۔لہذا اصل تو یہی ہے کہ  والدین کی رضامندی سے نکاح کیا جائے۔ خفیہ نکاح کے صحیح ہونے کی مزید اضافی شرائط(کُفْوُ :کہ خاندانی حیثیت میں،  نیکی تقوی میں، پیشہ میں، اور مالدار ہونے میں لڑکا، لڑکی کے برابر اور جوڑ کا ہو) کو پورا کرنا ضروری ہے، لہٰذا آپ کفو کی شرط کو پورا کرکے دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں، البتہ یہ بھی دیکھ لیں کہ خفیہ نکاح کرنے کی صورت میں اگر اس کے یا آپ کے والدین نے  اس نکاح کی اجازت نہ دی  تو آپ کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، اور کبھی نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے، اس لیے سوچ سمجھ کر ایسا فیصلہ کرنا چاہیے۔
  3. بہتر یہ ہے کہ لڑکا اور لڑکی دونوں الگ الگ  شخص کو اپنا وکیل بنا ئیں تاکہ ایجاب وقبول میں اس کے لیے آسانی ہو۔  
  4. اگر پہلا نکاح نادرا میں درج ہے تو اس کو ختم کراکے دوسرا نکاح درج کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

والله اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق غَفَرَاللہُ لَہٗ

دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ